سرینگر، 03 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں کشمیر کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ریاست کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ اگر ریاست میں سب ٹھیک ہے تو مرکز کی طرف سے ایسے حکم کیوں دئے جا رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آخر این آئی ٹی کے طالب علموں کو جانے کے لئے کیوں کہا گیا؟۔محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کشمیر کی شناخت کو بچانے کے لئے تمام مرکزی دھارے کی پارٹیوں کو متحد ہونا چاہئے۔دراصل سوشل میڈیا پر افواہیں بھری پڑی ہیں کہ آرٹیکل 35 اے کو جلد ہی ختم کرنے کا اعلان ہونے والا ہے۔اسے دیکھتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیڈران کے مختلف بیانات آ رہے ہیں۔ایک دن پہلے ہی حکومت نے سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے مشاورت جاری کیا اور امرناتھ یاترا کو روک دیا،جس کے بعد ہی جموں و کشمیر میں کشیدگی ہے۔محبوبہ مفتی نے آرٹیکل 35 اے کی حفاظت کے لئے اپنے سیاسی مخالف فاروق عبداللہ سے ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے ریاست کے خصوصی درجے کی حفاظت کے لئے فاروق عبداللہ سے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی اپیل کی ہے۔محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ حالیہ واقعات سے جموں و کشمیر کے لوگوں میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے، اس لئے میں نے ڈاکٹر عبداللہ صاحب سے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی اپیل کی ہے،یکجہتی کے ساتھ جواب دینا وقت کی ضرورت ہے،ہم کشمیر کے لوگوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں میڈیا رپورٹ آنے کے بعد گزشتہ چند دنوں سے کشمیر میں کافی تناؤ کی صورت حال ہے۔آرٹیکل 35 اے کے تحت کشمیر میں مستقل رہائشی کی تعریف طے کرنے کا حق ریاستی اسمبلی کو دیا گیا ہے۔